The Health Solutions

Tips and Info for Health Issues, Beauty Issues and Fitness Problems or Much More.

New Articals

Monday, June 17, 2019

Fiber - - Jaan Bachane Wali Behtareen Ghaza

Fiber - - Jaan Bachane Wali Behtareen Ghaza


اگرڈاکٹر آپ کو انتہائی سستی ‘ادویاتی اثرات سے بھر پور اور جان بچانے والی غذا کھانے کو کہیں تو یقینا آپ کا
جواب ہاں میں ہو گا تو یادرکھیے کہ یہ غذاریشہ یا فائبر کہلاتی ہے جو دل کے امراض ‘فالج‘بلڈ پریشراور ذیابیطس جیسے خطر ناک امراض کو روکنے میں لاثانی ہے۔ 
حال ہی میں فائبر اور کولیسٹرول کے درمیان ایک ربط دریافت ہوا ہے جس کے تناظر میں خون میں کولیسٹرول کاتناسب متوازن رکھنے کے قوی شواہد ملتے ہیں اگر چہ فائبر کو صرف قبض کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جو درست نہیں اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں تحقیقات اور مطالعوں سے فائبر کی اہمیت دنیا پر واضح ہوچکی ہے ۔
ماہرین روزانہ25سے30گرام فائبر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بعض لوگ کیلے کو فائبر کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن120گرام وزنی کیلے میں فائبر کی صرف3سے4 گرام مقدار ہوتی ہے۔
اسی بنا پر دنیا کی 90فیصد آبادی فائبر استعمال نہیں کررہی۔

فائبر والی غذائیں

کئی پھل اور سبزیوں‘مکمل اناج(ہول گرین)‘پاستا‘پھلیوں‘چنوں‘بیجوں اور گری دار میووں(بادام‘ اخروٹ‘پستہ وغیرہ)میں اس کی بلند مقدار پائی جاتی ہے۔

25-30گرام فائبر کی تلاش

نصف کپ جو یادلیے میں 9گرام‘دو ویٹابکس میں 3گرام‘براؤن بریڈ میں 2گرام‘دالوں والے ایک کپ میں 4گرام‘چھلکا سمیت ایک آلو میں 2گرام‘ایک گاجر میں 1گرام اور چھوٹے سیب میں 4گرام فائبر پائی جاتی ہے۔اسی بناپر ضروری ہے کہ فائبر یا ریشوں کو ناشتے میں استعمال کیا جائے اور دن کے باقی حصوں میں بھی اسے غذا کا حصہ بنایا جائے۔


فائبر کے فوائد

185مطالعوں اور58طبی ٹیسٹ سے فائبر کی اہمیت سامنے آئی ہے اور اس کی تفصیلات حال ہی میں معروف امریکی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگر 1000افراد کو 15 گرام(کم ترین فائبر)25سے 29گرام فائبر (زیادہ فائبر)کی جانب لایا جائے تو اس سے 6افراد کودل کے امراض اور 13افراد کو قبل ازوقت موت سے بچایا جا سکتا ہے۔

فائبر آنتوں میں رہنے والے لاکھوں اقسام کے بیکٹیریا کی خوراک ہوتی ہے۔بیکٹیریا اس کے ردعمل میں مفید کیمیکلز خارج کرتے ہیں جس کے پورے جسم پروہ تمام اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا ہم ذکرکر چکے ہیں۔

ہرے پتوں والی سبزیاں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں نائٹریٹ بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ایک جانب تو دل کو طاقت دیتا ہے تو دوسری جانب جگر کے ایک عام مگر بسا اوقات جان لیوا مرض”فیٹی لیور“کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتاہے۔

پالک‘سلاد اور پھول گوبھی جیسی سبزیوں میں نائٹریٹ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جس کے بہت سے طبی فوائد ہیں ۔اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بالغوں میں جگر کی سب سے عام کیفیت’نان الکحل فیٹی لیورڈیزیز‘(این اے ایف ایل ڈی)یا’لیور اسٹیٹوسس‘کو روکتا ہے۔اس مرض میں جگر کے اندر چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور بسا اوقات قبل ازوقت موت سمیت بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے بالغ افراد کی بہت بڑی تعداد‘این اے ایف ایل ڈی‘کی شکار ہے اور صرف امریکا میں ہی 30-40فیصد افراد اس کیفیت میں مبتلا ہیں ۔اس مرض کا تعلق موٹاپے اور غیر معمولی میٹا بولک کیفیات سے بھی ہو سکتا ہے ۔اب بھی اس کا علاج صرف ورزش اور احتیاط ہی ہے کیونکہ این اے ایف ایل ڈی کی شدید کیفیات میں جگر فائبروسس اور سورسس شامل ہیں جو کہ جان لیوا ہیں۔

سویڈن میں واقع کیرولنسکاانسٹیٹیوٹ کے سائنس دانوں نے ہرے پتے والی سبزیوں میں موجود نائٹریٹ کے بارے میں تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جگر میں چربی کی افزائش بہت حد تک کم ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چوہوں کے تین گروہوں پر تجربات کیے‘پہلے گروہ کو معمول کے مطابق خوراک دی گئی‘دوسرے گروہ کو صرف چکنائیوں سے بھری اور تیسرے گروہ کو چکنائیوں بھری خوراک کے ساتھ ساتھ نائٹریٹ کے سپلیمنٹ بھی دےئے گئے۔

نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب زائد چکنائی اور شکر سے بھر پور غذائیں کھانے والے چوہوں کو نائٹریٹ دیا گیا تو ان کے جگر میں چربی کے تمام آثار (مارکر)بڑی حد تک کم ہونے لگے۔علاوہ ازیں چوہوں میں بلڈ پریشر بہتر رہا اور انسولین سے حساسیت بھی بہتر ہوئی جو ایک بہتر کیفیت ہے۔

No comments:

Post a Comment